نئی دہلی،24/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا)جموں اینڈکشمیر بینک اور اس کے سابق چیئرمین پرویز احمد پر ہوئی کارروائی سے حاصل معلومات پر مرکزی براہ راست ٹیکس بورڈ (سی بی ڈی ٹی) سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔ایسی ہی ایک کارروائی میں ایک سکیورٹی کمپنی کے خلاف تلاشی اور ضبطی مہم چلائی گئی جو کاروباری تنصیبات اور اہم لوگوں کو سیکورٹی کے نظام فراہم کرنے کے کاروبار میں ہے۔یہ گروپ جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں ہوٹل بھی چلاتا ہے۔اس گروپ کی پنجاب کے ایک متنازعہ میڈیکل کالج میں بھی حصہ داری ہے جسے سال 2014 میں میڈیکل کونسل نے بند کرنے کا حکم دیا تھا۔گروپ پر الزام ہے کہ اس نے سرکاری شعبے کے جموں وکشمیربینک کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے اور دوسرے کاروباروں کے لئے بڑے پیمانے پر حاصل قرض کو پرموٹرس کے فوائد کے لئے میڈیکل کالج اور ہوٹلوں میں لگا دیا۔تلاش آپریشن سے یہ پتہ چلا ہے کہ مختلف پبلک سیکٹر کے بینکوں کے تقریباََ 74کروڑروپے کے قرض کو دوسری جگہوں پر لگا دیا گیا۔گروپ نے جموں اینڈکشمیر بینک کے کچھ افسران کی ملی بھگت سے اسے انجام دیا۔گروپ کو بینکوں سے کل 200 کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض حاصل ہوا اور یہ غیرادائیگی جائیداد یعنی این پی اے میں تبدیل کر دیا۔سی بی ڈی ٹی کو اس بات کے مضبوط ثبوت ملے ہیں کہ پروموٹر گروپ نے قریب 125 کروڑ روپے کے فنڈ کی راؤنڈ ٹرپ ہے۔